Aik zinda shkas ka janaza
👈 ایک زندہ شخص....!! 💮
ایک بار ڈاکٹر اشفاق حسین مجھ سے کہنے لگے:
"یار...! میں نے مرنا نہیں، ہجرت کرنی ہے، اِس شہر سے اُس شہر جانا ہے اور جب یہ بےوقوف لوگ مجھے اٹھا کر لے جارہے ہوں، تو کم از کم تُو میرے جنازے میں نہ آنا، کیونکہ تمہیں تو خبر ہو گی کہ میں اس وقت بھی زندہ ہوں..."
اور جب وہ ایک بار موت سے لڑ کر واپس آۓ، تو میں نے ان کے کان میں سرگوشی کی:
"کیوں جی...! کیا ہوا...؟"
وہ عمرو عیار کی طرح آنکھیں گُھما کر بولے:
"یار...! وہ آیا تھا... موت کا فرشتہ... لیکن اس سے پہلے کہ وہ میری گٹھڑی اپنے سر پر رکھتا، میں نے اس سے کہا... "یار تمہارا جو جی چاہے کرو، بس مجھے ﷲتعالیٰ سے اتنا پوچھ دو، میری اوپر زیادہ ضرورت ہے یا نیچے...؟" اس نے کہا... "اچھا تم یہیں رکو، میں ابھی پوچھ کر آتا ہوں..." اور غائب ہو گیا، اور اس کے بعد ابھی تک واپس نہیں آیا... شاید ﷲ نے اسے کسی اور کام لگا دیا ہے...
ہم جب بھی موت، کفن یا قبرستان کا ذکر کرتے، ڈاکٹر اشفاق حسین ہمیں روک کر کہتے... "نہیں دوستو...! بری بات، تم لوگ زندہ ہو، صرف زندگی کی بات کرو..." لیکن ہم میں سے کوئی انہیں ٹوک کر کہتا... "ڈاکٹر صاحب موت سب سے بڑی حقیقت ہے..." وہ کھانستے، پھر ہنستے اور پھر کہتے... "پر دوستو...! زندگی اس سے بھی بڑی حقیقت ہے... وہ لوگ بڑے بےوقوف ہوتے ہیں، جو چمکتی دوپہر میں رات کے اندیشے سے کانپتے رہتے ہیں..."
مجھے شوگر ہو گئی تو میں پریشانی میں ان کے پاس گیا... مجھے دیکھ کر کہنے لگے..."یہ تم چہرے کی جگہ تربوز لگا کر کیوں آگئے...؟" میں نے خون کی رپورٹ ان کے سامنے رکھ دی...
انہوں نے دیکھی، قہقہہ لگایا، اور اسے پُرزے پُرزے کرکے ٹوکری میں ڈال کر بولے... "یار تم نے زندگی میں کبھی بیماری دیکھی ہی نہیں، ورنہ اس معمولی مسئلہ پر اتنے پریشان نہ ہوتے... مجھے دیکھو... میں چار سال سے چارپائی پر پڑا ہوں، میرا جگر درد بھرا پھوڑا بن چکا ہے، گردے اپنا کام بند کر چکے ہیں، پیٹ سے ہفتے میں چھ بوتلیں پانی نکلواتا ہوں، بغیر سہارے کے کروٹ نہیں بدل سکتا، کھل کر سانس نہیں لے سکتا، جی بھر کر کھا نہیں سکتا اور ستم یہ کہ "ستار" تک نہیں بجا سکتا... لیکن ان چار سالوں میں کبھی بھی تم نے مجھے مایوس دیکھا...؟ کبھی "مجھے بھی بُلا لو یارسولﷲﷺ" کا نعرہ لگاتے سنا...؟ لوگوں سے بےزار اور تنہائی کا شکار دیکھا...؟"
میں نے فوراً نفی میں سَر ہلا دیا...
"تم نے کبھی سوچا، میں اتنا خوش کیوں ہوں...؟ میرے اطمینان کا فارمولا کیا ہے...؟"
میں نے پھر گردن نفی میں ہلا دی...
"وہ یہ میری جان...! کہ میں نے اپنے اندر زندگی کی خواہش کو مرنے نہیں دیا... اس کی ایسے حفاظت کی، جیسے ماں اپنے پیٹ کے بچے کی کرتی ہے... چنانچہ تمہارے سامنے ہوں، خوش ہوں، مسرور ہوں، قہقہے لگاتا ہوں، لطیفے سنتا اور سناتا ہوں............ اور تم بےوقوف شخص، صرف " شوگر" سے پریشان ہو، جو روزانہ ایک گھنٹہ واک سے ٹھیک ہو سکتی ہے..." وہ تھوڑی دیر کیلیۓ رُکے اور پھر گویا ہوۓ...
"اور ہاں...! تمہیں ایک اور بات بتا دوں... اسے تحفہ درویش جانو... جب تک انسان کے اندر زندہ رہنے کی خواہش زندہ رہتی ہے... وہ مَر نہیں سکتا... یہ میرا ایمان ہے اور تجربہ بھی... مجھے دیکھو...! جس بندے کا جگر ختم ہو چکا ہو، کیا وہ زندہ رہتا ہے...؟ پر میں چار برس سے زندہ ہوں، کیوں...؟ صرف اسلیۓ کہ میں زندہ رہنا چاہتا ہوں..." ڈاکٹر اشفاق خاموش ہو گئے...
ڈاکٹر صاحب میں زندگی تھی بھی بہت... ان کے انگ انگ سے نشر ہوتی تھی... ایک ایک لفظ سے جھلکتی تھی...
جب بینظیر بھٹو ان کی چند پُڑیوں سے دوبارہ زندہ ہو گئی، تو اس نے ڈاکٹر اشفاق حسین سے پوچھا: "ڈاکٹر صاحب...! میں آپ کیلیۓ کیا کر سکتی ہوں...؟"
ڈاکٹر صاحب نے سُن کر قہقہہ لگایا، اور بولے: "بی بی...! آپ میرے لیۓ کچھ نہیں کر سکتیں... کیونکہ میری ایسی کوئی ضرورت نہیں، جو پوری نہ ہوتی ہو... کوئی ایسی خواہش نہیں، جس سے میں نے لطف نہ اٹھایا ہو..."
"میں آپ کیلیۓ پھر بھی کچھ کرنا چاہتی ہوں..." بینظیر نے زور دیا...
"اچھا..." ڈاکٹر اشفاق نے تھوڑی دیر سوچا اور پھر بولے... "پرائم منسٹر...! آپ نے کبھی مَردِ اوّل کو اپنے ہاتھوں سے چاۓ بنا کر پلائی ہے...؟"
بینظیر نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا اور گردن نفی میں ہلا دی...
"پھر آپ میرا ایک کام کر سکتی ہیں..." ڈاکٹر صاحب نے اس لہجے میں کہا، جیسے سارا مسئلہ ہی حل ہو گیا ہو...
"وہ کیا...؟" بینظیر نے پوچھا...
"میں جب بھی آپ کے پاس آؤں، آپ مجھے اپنے ہاتھ سے چاۓ بنا کر پلا دیا کریں..." ڈاکٹر نے بچوں کی سی سادگی سے کہا اور بینظیر نے قہقہہ لگا دیا...
اتنا اونچا، بلند اور بےباک قہقہہ جو "دخترِ مشرق" کی محفل میں بیٹھنے والے کسی شخص نے کبھی نہیں سنا ہو گا...
ادھر جب نواز شریف نے ڈاکٹر اشفاق سے پوچھا... "ڈاکٹر صاحب...! آپ کی کوئی ایسی خواہش، جو میں پوری کر سکوں...؟"
"ہاں... ہے..." بوڑھے نحیف ڈاکٹر نے گردن ہلاتے ہوۓ جواب دیا...
نواز شریف چونک گئے...
"میں چاہتا ہوں کہ آپ اور میں ایک ہی پیالے میں پاۓ کھائیں..." ڈاکٹر نے نہایت معصومیت سے کہا، اور نواز شریف نے بھی ایک بلند بانگ قہقہہ لگا کر حاضرین کو حیران کر دیا...
شفا انٹرنیشنل کے "آئی- سی- یو" میں جب میں ان سے آخری ملاقات کیلیۓ گیا، تو وہ نلکیوں میں لپٹے پڑے تھے... میں خاموشی سے ان کے سامنے کھڑا ہو گیا... انہوں نے پوری آنکھیں کھول کر مجھے پہچانا اور پھر کچھ کہنے کی کوشش کی، لیکن آواز اتنی مدھم تھی کہ میں الفاظ سمجھ نہ سکا... اور پھر آدھ گھنٹہ بعد جب میں ہسپتال کی لفٹ سے باہر آرہا تھا، تو میں نے سوچا کہ "اس بار جب جان قبض کرنے والا فرشتہ آۓ گا اور ڈاکٹر اشفاق شوخی سے پوچھیں گے..."
"یار تم نے ابھی تک بتایا نہیں، میری اوپر زیادہ ضرورت ہے یا نیچے...؟" تو شاید وہ کہے...
"میں پوچھ آیا ہوں... آپ کی اوپر زیادہ ضرورت ہے..."
"پر کیوں...؟" وہ اپنے روایتی لہجے میں پوچھیں گے...
فرشتہ بولے گا... "وہ کہہ رہے ہیں کہ، ہم ایک زندہ شخص کو، مُردوں میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے..."
دوسرے روز جب مجھے ڈاکٹر اشفاق حسین کے انتقال کی خبر ملی، تو میں گھر آکر سو گیا... اس شام یار احباب نے پوچھا... "تم جنازے میں کیوں نہیں آۓ...؟" تو میں نے کہا...
"کیونکہ میں جانتا ہوں، ڈاکٹر اشفاق مَرے نہیں... انہوں نے بس ہجرت کی ہے، اس شہر سے نکل کر دوسرے شہر چلے گئے... یہاں مُردوں کو ہنسایا کرتے تھے... وہاں زِندوں کو رُلایا کریں گے..."
ہاں دوستو...!! میں مُردوں کے جنازے پڑھنے کا عادی ہوں... میں کسی زندہ شخص کو کندھا نہیں دے سکتا...........
Comments
Post a Comment